t"/>

تازہ ترین

ہفتہ، 18 جولائی، 2026

خیبرپختونخوا حکومت کا سابق فاٹا اور پاٹا سے تمام صوبائی ٹیکسز ختم کرنے کا اعلان

خیبرپختونخوا حکومت نے سابق فاٹا اور پاٹا میں صوبے کے زیرانتظام تمام ٹیکس واپس لینے کا اعلان کرتے ہوئے وفاق سے 10 سال کا استثنیٰ جبکہ انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی تکمیل کا مطالبہ کیا ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیر اعلیٰ ہاؤس میں وفاق کی جانب سے سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس نفاذ کے خلاف صوبائی حکومت کے زیر اہتمام گرینڈ جرگے کا انعقاد کیا گیا جس میں پیپلز پارٹی، اے این پی، جمعیت علمائے اسلام، مسلم لیگ، جماعت اسلامی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور تاجر برادری نے شرکت کی۔ گرینڈ جرگے میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے شرکت کی اور شرکا سے خطاب میں کہا کہ جرگے میں شریک تمام سیاسی رہنماؤں اور تاجر برادری کا شکریہ ادا کرتا ہوں، سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس نفاذ کے معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد پر صوبائی حکومت کا شکر گزار ہوں۔ گورنرخیبرپختونخوا نے کہا کہ اس سے قبل بھی سی این جی اور گندم کے معاملات پر تمام سیاسی جماعتیں متحد ہوئی تھیں، خیبرپختونخوا کے آئینی اور معاشی حقوق کے حصول کے لیے حکومت اور اپوزیشن ایک صفحے پر ہیں جو خوش آئند ہے۔ فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے صوبے کے مسائل پر متفقہ مؤقف اختیار کیا، صوبے کے آئینی اور مالی حقوق کے لیے وفاق سے مضبوط دلائل کے ساتھ بات کریں گے، سابق فاٹا کے لیے سو ارب روپے فراہم کرنے کا وفاقی وعدہ آج تک پورا نہیں کیا گیا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ وعدے پورے کیے بغیر سابق فاٹا میں ٹیکس نافذ کرنا مناسب نہیں، سابق فاٹا کے تاجروں کو لاہور اور دیگر شہروں کے تاجروں جیسی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا قدرتی وسائل سے مالامال صوبہ ہے اور  صوبے کے حقوق اور مفاد کے ہر معاملے پر صوبائی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ صوبے کے تمام مسائل پر پہلے باہمی اتفاق رائے پیدا کریں گے، پھر وفاق سے مؤثر انداز میں بات کریں گے، خیبرپختونخوا کے حقوق کے حصول کے لیے تمام سیاسی قوتوں کا اتحاد خوش آئند ہے، خیبرپختونخوا کے مفاد پر سیاست نہیں ، اتحاد اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ جرگے میں مںظور کی گئی قرارداد وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہونے والے جرگے میں قراردادیں پیش کی گئی جن کو شرکا نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ ایک قرارداد میں کہا گیا کہ جرگہ سابق فاٹا اور پاٹا کے عوام کو درپیش سنگین صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے، فاٹا اور پاٹا میں بدامنی، دہشت گردی، نقل مکانی، جانی و مالی نقصانات، بے روزگاری، پسماندگی اور بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ وعدوں کے مطابق قبائلی علاقوں کو سالانہ فنڈز دیے گئے اور نہ ہی این ایف سی میں حصہ دیا گیا،  ٹیکسوں کا نفاذ انضمام کے بنیادی مقصد، وفاقی ذمہ داریوں اور عوام سے کیے گئے معاہدے کے منافی ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے سابق فاٹا اور پاٹا سے صوبے کے زیرانتظام تمام ٹیکس واپس لینے کا اعلان کیا اور قرارداد میں کہا کہ وفاقی حکومت سابق فاٹا اور پاٹا میں عائد تمام وفاقی ٹیکس فوری طور پر واپس لیے جائیں۔ قرارداد میں کہا گیا کہ دس سالہ ٹیکس استثنا مکمل طور پر بحال کیا جائے اور انضمام کے وقت کیے گئے تمام مالی، ترقیاتی اور امن سے متعلق وعدے پورے کیے جائیں،مطالبات منظور نہ ہونے پر باہمی مشاورت کے بعد لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مزید