t"/>

تازہ ترین

جمعرات، 30 جولائی، 2026

ٹرمپ اور نیتن یاہو کی وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے جہاں انہوں نے ایران کے حوالے سے پالیسی کے مختلف آپشنز پر غور کیا اور مختلف دعوے بھی کیے گئے۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے درمیان ملاقات میں علاقائی سیاست اور سلامتی کی صورت حال کے حوالے سے اہم گفتگو ہوئی، جس کا بنیادی مرکز خطے میں جنگ بندی، سفارتی راستوں کی بحالی، ایٹمی اور سیکیورٹی خدشات سے نمٹنے کی حکمت عملی تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ دونوں رہنماؤں میں 90 منٹ تک جاری رہنے والی ملاقات کا بنیادی مرکز اور محور ایران رہا، ٹرمپ اور نیتن یاہونے اس موقع پر ایران سے متعلق 3 آپشنز پر غور کیا، جس میں ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنا، ایران کے خلاف بحری ناکا بندی جاری رکھنا اور معاشی دباؤ میں اضافہ کرنا اور تیسرا ایران کے خلاف مزید شدت کے ساتھ دوبارہ حملے شروع کرنے کا آپشن شامل تھا۔ اس حوالے سے بتایا گیا کہ ٹرمپ کے نمائندے اسٹیو ویٹکوف اور جیرڈ کشنر تاحال ایرانیوں کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں تاہم فی الوقت اختلاف گہرا دکھائی دے رہا ہے جبکہ نیتن یاہو نے ٹرمپ سے کہا کہ انہیں شبہ ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہوسکتا ہے۔ اسرائیلی عہدیدار نے ویب سائٹ کو بتایا کہ ملاقات میں ان تمام آپشنز پر طویل اور تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، اس کا مقصد یہ نہیں تھا کہ کسی ایک آپشن کے مقابلے میں دوسرے کو ترجیح دی جائے بلکہ ہر ایک سے کیا بہتر نتیجہ سامنے آسکتا ہے اور گفتگو میں اس حوالے سے بات کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے توانائی کی مارکیٹوں اور عالمی معیشت پر جنگ کے اثرات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تاہم نیتن یاہو نے انہیں کہا کہ ایرانی حکومت بنیادی طور پر صرف فائدہ اٹھانے کوشش کر رہی ہے کیونکہ ان کے پاس امریکی فورسز سے رعایتیں حاصل کرنے کے لیے آبنائے ہرمز رہ گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ کے خدشات کو رد نہیں کیا لیکن انہیں بتایا کہ ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھانے کے طریقے موجود ہیں جو پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ ہم نے فوجی کارروائی یا بغیر کارروائی کے ذریعے معاشی دباؤ بڑھانے کے حوالے سے بات کی، ہم نے ایران پر دباؤ کے سلسلے میں بحری ناکابندی کے ممکنہ تسلسل پر بات کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت کے اندر ایک بحث ہے، ایک گروپ کو معاشی بدتری کے حوالے سے تشویش ہے جبکہ زیادہ سخت گیر عناصر سمجھتے ہیں کہ جب تک ان کا اسلحے پر کنٹرول ہے اور حکومت کے حامیوں کا تعاون حاصل ہے اس وقت تک کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ہر چیز کے بارے میں انتہائی منفی لائن لی ہوئی ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان کے مبینہ بیانات واقعی میں ان کی طرف سے آرہے ہیں، وہ زندہ ہیں لیکن کوئی یہ گواہی نہیں دے سکتا کہ انہوں نے واقعی ان کو دیکھا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے لوگوں سے کہا کہ وہ ان کی توثیق کے بغیر کچھ نہ کریں اور یہاں تک کہ ایک دفعہ جب انہوں نے ایسا کیا تو وہ مبینہ طور پر ناراض بھی ہوگئے تھے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مزید