t"/>

تازہ ترین

منگل، 13 اکتوبر، 2026

بی جے پی کو ووٹ نہ دینے والے مسلمانوں کو پانی نہیں ملے گا؛ بات اقوام متحدہ تک پہنچ گئی

کولکتہ کی مسلم بستی میں دو ماہ سے پانی کی فراہمی بند ہونے پر ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمان نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے سے مدد کی اپیل کردی۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق بھارت کی ریاست مغربی بنگال کے شہر کولکتہ کی جیوتی نگر کالونی میں تقریباً پانچ ہزار مسلمان آباد ہیں جنہیں مقامی انتظامیہ نے پانی کی فراہمی سے انکار کردیا ہے۔ یاد رہے کہ بی جے پی کے نومنتخب رکن اسمبلی رتیش تیواری نے انتخابی مہم کے بعد اپنے حامیوں سے خطاب میں کہا تھا کہ جن مسلمانوں نے انھیں ووٹ نہیں دیا وہ ان کے لیے کوئی کام نہیں کریں گے اور نہ ہی انہیں سرکاری سہولتیں فراہم کریں گے۔ تاہم وہ کامیاب نہیں ہوسکے جس  کے بعد سے اس علاقے کا پانی بند کردیا گیا ہے حالانکہ یہاں برسوں سے پانی کی فراوانی ہوا کرتی تھی لیکن بی جے پی کے رکن اسمبلی نے اب قدغن لگا دی ہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ انہیں پینے کا پانی حاصل کرنے کے لیے تقریباً ایک کلومیٹر دور جانا پڑتا ہے جبکہ دیگر ضروریات کے لیے دریا کے پانی پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمان سمیر الاسلام نے اقوام متحدہ کو لکھے گئے خط میں الزام لگایا ہے کہ مسلمانوں کو بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ نہ دینے کی وجہ سے سرکاری سہولتوں سے محروم کیا جا رہا ہے۔ سمیر الاسلام کے مطابق انہوں نے حکام سے رابطے اور عدالت میں مفاد عامہ کی درخواست دائر کرنے سمیت تمام راستے آزمانے کے بعد اقوام متحدہ سے رجوع کیا۔ دوسری جانب کولکتہ میونسپل کارپوریشن کی ایڈمنسٹریٹر سمتا پانڈے نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ بستی سرکاری زمین پر قائم ہے۔ ان کے مطابق کسی علاقے میں پانی کی فراہمی متاثر ہونے پر میونسپل ٹینکروں کے ذریعے پانی مہیا کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ بی جی پی کی معتصب حکومت نے اس بستی کے انہدام کا نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا تاہم عدالت نے فی الحال اس کارروائی کو روک رکھا ہے۔  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مزید