t"/>

تازہ ترین

اتوار، 15 فروری، 2026

جماعت اسلامی کے کامیاب امیدوار مخالف امیدوار کی ماں سے لپٹ کر رو پڑے؟ ویڈیو وائرل

ڈھاکا کی ایک نشست سے کامیاب جماعت اسلامی کے امیدوار بیرسٹر احمد بن قاسم ارمان نے اپنی حریف بی این پی امیدوار سنجیدہ اختر کے گھر پہنچ گئے جہاں جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بیرسٹر احمد بن قاسم کے والد میر قاسم علی جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما تھے جنھیں 2016 میں حسینہ واجد نے پھانسی دی تھی۔ خود احمد بن قاسم کو بھی ان کے گھر سے اغوا کرکے 8 سال تک لاپتہ رکھا گیا تھا اور حسینہ واجد کا تختہ الٹنے کے بعد رہائی ملی تھی۔ اسی حلقے سے بی این پی کی امیدوار سنجیدہ اختر تھیں جن کی والدہ حاضرہ خاتون نے حسینہ واجد کے دور میں اپنے بیٹے کے لاپتا ہونے پر "مایر داک" (ماں کی آواز) نامی تحریک چلائی تھی۔ اس تحریک کا مقصد حسینہ واجد کے دور میں جبری طور پر لاپتا کیے جانے والے سیاسی کارکنان کی بازیابی کے لیے آواز اُٹھانا تھا۔ اس جدوجہد کے دوران ان کے اپنے بیٹے ساجد الاسلام ثمن جو 2013 سے لاپتا تھے تاحال گھر نہ لوٹے لیکن انھوں نے ہمت نہ ہاری۔ جس پر بنگلادیش نیشلسٹ پارٹی نے ان کی بیٹی کو لاپتا بیٹے کے بدلے ٹکٹ دیا تھا تاہم وہ جماعت اسلامی کے امیدوار سے ہار گئیں۔         View this post on Instagram                       جماعت اسلامی کامیاب امیدوار احمد بن قاسم لاپتا ہونے کا درد سمجھتے ہیں اور اپنے باپ کو پھانسی چڑھتا بھی دیکھ چکے ہیں۔ اس لیے اپنی کامیابی کے فوری بعد سنجیدہ اختر کے گھر گئے اور لاپتا افراد کی آواز اُٹھانے والی ان کی ماں کو خراج تحسین پیش کیا۔      

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مزید