رب دو جہاں نے کائنات میں لاتعداد اشیا بنائی ہیں ۔ نظر نہ آنے والے بیکٹیریا وائرس سے لے کر تا حد نگاہ وسعت لیے آسمان تک ہر شے قدرت کی بے مثال کاریگری کی گواہ ہے۔ زمین پر پائے جانے والی اشیاء میں تنوع دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ صدیوں سے انسان کھوج میں لگا ہے اور قدرت کے نت نئے شاہکار متواتر منظر عام پر آ رہے ہیں۔ پھر چاہے کھوج کی سمت افق کی بلندیاں ہوں یا سمندروں کی گہرائیاں، زمین کا حدود اربعہ ہو یا پہاڑوں کے اسرار۔ اور کھوج کا دائرہ کار اگر کرہ ارض سے بڑھ کر فضاؤں تک چلا جائے تو بلیک ہول (Black hole) جیسی اختراع حضرت انسان کے لیے کائنات کے اسرار و رموز کا احاطہ کرنا ناممکن بنا دیتی ہیں۔ جاندار ہو یا بے جان اللہ تعالیٰ نے ہر شے کو ایک علامتی خاصیت بخشی۔ کوئی چیز خوبصورتی کا استعارہ ہے تو کوئی طاقت کا۔ کوئی کمزوری کی علامت ہے تو کوئی شے سب سے بڑھ کر کار آمد۔ اسی تناظر میں انسان کا بحیثیت ابداع جائزہ لیا جائے تو یہ سپیشی(Specie) بیک وقت کئی متاثر کن خصوصیات کی حامل ہے۔ مالک دو جہان نے اپنی اس تخلیق کو دنیا میں بحیثیت نائب چنا اور آج وہ دنیا پر حکمرانی کرتا نظر آتا ہے۔ تاہم وہ خاص ودیعت الٰہی جس کی وجہ سے انسان دیگر تمام مخلوق سے ممتاز ہے وہ ’’سوچ کا اختیار، شعور یا آزاد مشیت‘‘ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جینیاتی ساخت و ترکیب (Genotype) سے لے کر ظاہری خصائص (Phenotype) تک ہر انسان کو دوسرے سے الگ بنایا۔ انسان کو شعور دے کر اس شعور کے مطابق عمل سر انجام دینے کا ایک محدود مدت کے لیے محدود اختیار تفویض کیا اور دیگر اوصاف کی طرح اس خاصیت میں بھی ہر بشر کو انفرادیت بخشی۔ مقام افسوس یہ ہے کہ انسان درج بالا نعمتوں کا استعمال انتشار پھیلانے اور بے سکونی و تنگی پیدا کرنے کے لیے کر رہا ہے۔ معاشرتی نظام کی سب سے چھوٹی اکائی یعنی گھر کی بات کی جائے تو اس کے افراد کے مابین بھی سوچ اور نظریات میں اختلاف پایا جاتا ہے یہاں تک کہ محض دو افراد کو بھی پرکھا جائے تو ان کا بھی ایک دوسرے کی ہر بات سے اتفاق کرنا ممکن نہیں۔ معاشرتی سطح پر عموماً کسی بھی نوعیت کے بحث و مباحثے میں اس حقیقت کو مطلقاً پس پشت ڈال دیا جاتا ہے کہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کے تحت ہر فرد اپنی رائے رکھتا ہے۔ جب اختلاف میں اخلاقیات کو بلائے طاق رکھ دیا جاتا ہے تو گویا انسانی ذات میں ان اوصاف کی نفی کی جاتی ہے کیونکہ بصورت دیگر حقیقت تسلیم کر لینے پر دوسروں کی رائے کا احترام نہ کرنے یا اپنے نظریات دوسروں پر مسلط کرنے والے شدت پسند عمل کا کوئی جواز نہیں بچتا۔ اللہ پاک نے انسان کی فطرت جھگڑالو بیان کی ہے۔ سورہ الکہف کی آیت نمبر 54 میں فرمایا گیا ہے۔ اور بیشک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر طرح کی مثال کو (انداز بدل بدل کر) بار بار بیان کیا ہے، اور انسان جھگڑنے میں ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ اسی طرح اللہ پاک کا حضرت آدم علیہ السلام کو دنیا میں نائب بنا کر بھیجنے کا فیصلہ جان کر فرشتوں نے بھی اپنے محدود علم کی بنیاد پر یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ تو زمین میں فساد برپا کرے گا۔ سورہ بقرہ آیت نمبر 30 ہے: ’’اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا: میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں، فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے کو خلیفہ بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون ریزی کرے گا؟‘‘ حضرت ہابیل کے قتل سے شروع ہونے والا پراگندگی اور ظلم و ناانصافی کا سلسلہ آج تک چلا آ رہا ہے۔ انسان ناشکری کی انتہا کرتے رب کی بہترین عطا یعنی اپنی صوابدید پر کام کرنے کی صلاحیت کا استعمال اپنی جدل کرنے والی فطرت کی تسکین کے لیے کر رہا ہے۔ اگر اختلاف رائے سیاست سے متعلقہ ہو تو معاملہ مزید گمبھیر ہو جاتا ہے۔ صورتحال کو بدتر پاکستانی عوام کی دل پسند سیاست دانوں کو سیاہ یا سفید دیکھنے کی عادت بناتی ہے جب کہ اس وقت اکثریت سرمئی ہے۔ عوام کے سیاسی نظریات میں حقائق سے زیادہ جذبات کا عمل دخل ہوتا ہے. وہ چرب زبان سیاست دانوں کے کھوکھلے لفظوں اور بناوٹی لہجوں سے متاثر ہو کر عقلی طور پر قائل ہونے سے زیادہ جذباتی وابستگی بنا لیتے ہیں۔ اس کی وجہ بھلے عوام کی سادہ لوحی، کم علمی یا سوچ کی ناپختگی ہو لیکن کسی کو سو فیصد غلطیوں سے مبرّا سمجھنے والا طرزِ عمل خطرناک ہے۔ اور اس سے زیادہ خطرناک اپنے پسندیدہ رہنما کے خلاف دوسروں کی رائے سننے کی برداشت نہ رکھنا ہے۔ اندھی عقیدت میں لوگ نہ اپنی منتخب کردہ پارٹی کی غلطیاں دیکھ سکتے ہیں اور نہ اپوزیشن کی اچھائیاں۔ حضرت انسان کی ذات کا ایک اہم پہلو اس کی تغیر کی دلدادہ ذات ہے۔ انسان سدا ایک سا نہیں رہتا۔ حالات و واقعات اسے بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یہاں تک کہ باہر کسی خاطرخواہ تبدیلی کے بغیر بھی انسان کے اندر رونما ہونے والی تبدیلیوں کا عمل جاری و ساری رہتا ہے۔ سائنس انسان کی اس خصوصیت کی مداح ہے اور ہر لحظہ بدلتی کائنات میں انسان کی بقا کا سہرا اسی جبلت کے سر سجاتی ہے۔ لیکن لوگ شخصیت پرستی میں یہ تک بھول جاتے ہیں کہ بدلاؤ انسان کا خاصہ ہے۔ عین ممکن ہے جس لیڈر کے ایک اچھے عمل کی بنا پر اسے سراہا جاتا ہو وقت رہتے اس نے اپنی اس اچھائی کو کھو دیا ہو۔ ہر لمحہ بدلتی عالمی صورتحال اب بے یقینی کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ گزرتا وقت چہروں سے نقاب اتارتے کسی کا مکروہ چہرہ عیاں کر رہا ہے تو یہی وقت کسی کو بے گناہ ثابت کر رہا ہے۔ سماج میں بہتری لانے کے لیے سماجی اکائیوں کا اس صورتحال میں اپنی ’’آئیڈیل‘‘ شخصیات کے نت نئے چہروں کو پہچاننا اور قبول کرنا ضروری ہے۔
اتوار، 15 مارچ، 2026
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں