t"/>

تازہ ترین

پیر، 16 فروری، 2026

سکندرِ اعظم زندگی

دنیا کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے محض چند دہائیوں کی زندگی میں انسانیت کی سمت بدل دی۔ سکندرِاعظم انھیں نادر شخصیات میں سے ایک ہے۔ ایک ایسا نوجوان جو محض 33 برس کی عمر میں وفات پانے کے باوجود دنیا کے بیشتر حصے کو اپنے زیرِ نگیں کرگیا، اور جس کی شخصیت آج بھی طاقت، حکمتِ عملی اور تہذیبی امتزاج کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ ابتدائی زندگی اور تربیت سکندر 356 قبل مسیح میں مقدونیہ کے دارالحکومت پیلا (Pella) میں پیدا ہوا۔ اس کے والد فلپ دوم مقدونیہ کے حکم راں اور ایک غیرمعمولی فوجی مدبر تھے، جب کہ والدہ اولمپیس (Olympias) مذہبی عقائد میں گہری وابستگی رکھنے والی اور اپنے بیٹے کے لیے عظیم خواب دیکھنے والی خاتون تھیں۔ روایت ہے کہ سکندر کی پیدائش کے دن یونان کے شہر ایفسس (Ephesus) میں آرتمس کے عظیم مندر میں آگ لگ گئی یوں یونانیوں نے کہا کہ دیوتا اپنے نئے ہیرو کے استقبال میں مشغول تھے۔ سکندر نے بچپن ہی سے غیرمعمولی ذہانت اور ضبطِ نفس کا مظاہرہ کیا۔ اس کا بچپن کا مشہور واقعہ بوسیفالْس (Bucephalus) نامی وحشی گھوڑے کو قابو کرنا نہ صرف اس کی جرأت بلکہ اس کے مشاہدے کی قوت کا اظہار تھا۔ فلسفیانہ تربیت: ارسطو کا اثر سکندر کی علمی تربیت کے لیے بادشاہ فلپ دوم نے دنیا کے عظیم فلسفی ارسطو (Aristotle) کو مقرر کیا. ارسطو نے سکندر کو فلسفہ، منطق، سائنس، طب، اخلاقیات اور سیاست کے رموز سکھائے۔ اسی تربیت نے سکندر میں علم و حکمت کے احترام اور یونانی فکر کی بنیاد رکھی۔ ارسطو ہی نے سکندر کو ہومر کی رزمیہ نظم ’’ایلیڈ‘‘ (Iliad) سے روشناس کرایا، جسے سکندر زندگی بھر اپنے تکیے کے نیچے رکھتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ وہ یونانی ہیرو اخیل (Achilles) کی طرح دنیا پر ایک لازوال نقوش چھوڑنے آیا ہے۔ اقتدار کا آغاز اور پہلی آزمائشیں 336 قبل مسیح میں سکندر کے والد فلپ دوم کو اُس کے محافظ نے قتل کردیا۔ محض 20 برس کا سکندر تختِ مقدونیہ پر بیٹھا۔ اقتدار سنبھالتے ہی اس نے بغاوتیں کچل دیں، مخالفین کو ختم کیا، اور اپنی ماں اولمپیس کو شاہی خاندان کی محافظ بنایا۔ ابتدائی کامیابی کے بعد سکندر نے اپنے والد کے سب سے بڑے خواب یعنی ایران (Persian Empire) کی فتح کو حقیقت میں بدلنے کا فیصلہ کیا۔ ایران اور ایشیائے کوچک کی فتوحات 334 قبل مسیح میں سکندر نے 50 ہزار سپاہیوں کے ساتھ دریا ہلسپونٹ (Hellespont) عبور کیا۔ یہی اْس کی تاریخی مہمات کا آغاز تھا۔ جنگِ گرانیکس یہ اُس کی پہلی بڑی جنگ تھی جس میں اُس نے ایرانی گورنروں کو شکست دی۔ یوں ایشیائے کوچک (موجودہ ترکی) میں یونانی بالادستی قائم ہوئی۔ جنگِ ایسس 333 قبل مسیح میں سکندر نے ایرانی بادشاہ دارا سوم (Darius III) کو شکست دی۔ دارا میدان چھوڑ کر بھاگ نکلا اور سکندر نے اس کے اہلِ خانہ کو عزت کے ساتھ قید رکھا۔ یہ اس کے اعلیٰ اخلاق اور رعایا داری کی مثال ہے۔ فتحِ صور 332 قبل مسیح میں لبنان کا شہر صور (Tyre) جو بحیرہ روم میں ایک جزیرے پر واقع تھا سات ماہ کے طویل محاصرے کے بعد فتح ہوا۔ یہ سکندر کی عسکری ذہانت کا کمال تھا، جس نے سمندر پر راستہ تعمیر کر کے جزیرے تک رسائی حاصل کی۔ مصر میں سکندر کی خدائی حیثیتِ صور کی فتح کے بعد سکندر نے مصر کا رخ کیا۔ مصریوں نے اسے فرعون کے طور پر قبول کیا، کیوںکہ وہ انہیں ایرانیوں کے ظلم سے نجات دلانے آیا تھا۔ وہاںSiwa Oasis کے مقدس مقام پر موجود Oracle of Ammon نے اعلان کیا کہ سکندر دراصل ’’خداؤں کا بیٹا‘‘ ہے۔ یہی تصور بعد میں یونان واپس پہنچا اور سکندر کی خدائی شخصیت کے اساطیری پہلو کی بنیاد بنا۔ سکندر نے مصر میں ایک نیا شہر بسایا اسکندریہ (Alexandria) جو بعد میں علم و تحقیق کا مرکز بن گیا۔ جنگِ گوگمیلا اور ایرانی سلطنت کا خاتمہ 331 قبل مسیح میں فیصلہ کن معرکہ گوگمیلا (Gaugamela) کے مقام پر ہوا، جہاں سکندر کی منظم اور تیزرفتار فوج نے داراسوم کی عظیم افواج کو شکست دی۔ دارا فرار ہوگیا اور بعد ازآں اپنے ہی سپاہ سالار کے ہاتھوں مارا گیا۔ یوں سکندر نے ایران، بابل، سوسہ اور پرسیپولس جیسے عظیم شہروں پر قبضہ کیا، اور یونانی دنیا پہلی بار ایک عالمی سلطنت میں بدل گئی۔ ہندوستان کی جانب پیش قدمی سکندر کی مہمات مغرب سے مشرق تک پھیل گئیں۔ 326 قبل مسیح میں وہ دریائے جہلم (Hydaspes) کے کنارے پہنچا، جہاں اس کا سامنا راجہ پورس سے ہوا۔ جنگِ جہلم راجا پورس کی ہاتھیوں پر مشتمل فوج کے مقابلے میں سکندر نے رات کے اندھیرے میں دریا عبور کرکے اسے شکست دی، مگر سکندر اُس کی جرأت سے متاثر ہوا اور اُسے واپس حکم راں مقرر کر دیا۔ اسی جنگ میں سکندر کا محبوب گھوڑا بوسیفالْس مارا گیا، اور اس نے اس کے نام پر شہر بوسیفالا (Bucephala) آباد کیا جو موجودہ پاکستان کے ضلع جہلم کے قریب واقع مانا جاتا ہے۔ سلطنت کی وسعت اور مشکلات ہندوستانی مہم کے بعد سکندر کے سپاہی تھک چکے تھے۔ جب وہ مزید مشرق (موجودہ پنجاب سے آگے) بڑھنا چاہتا تھا تو فوج نے بغاوت کر دی ’’ہم واپس جانا چاہتے ہیں!‘‘ سکندر مجبوراً بابل واپس لوٹا۔ راستے میں اْس نے سندھ اور بلوچستان کے علاقوں سے گزرتے ہوئے بحری راستہ دریافت کیا اور مقامی قبائل سے لڑائیاں بھی کیں۔ وفات اور پراسرار مقبرہ 323 قبل مسیح میں بابل میں قیام کے دوران سکندر شدید بخار میں مبتلا ہوا۔ محض 33 برس کی عمر میں وہ انتقال کرگیا۔ اُس کے بعد سلطنت اُس کے جنرلوں ’’دیادوشائی‘‘ کے درمیان بٹ گئی۔ سکندر کی موت کے بعد اس کا جسدِ خاکی مصر لے جایا گیا، مگر آج تک اُس کا مقبرہ دریافت نہیں ہوسکا۔ یہ قدیم تاریخ کا سب سے بڑا راز سمجھا جاتا ہے۔ تہذیبی وراثت: یونانی اثرات کا پھیلاؤ سکندر کی فتوحات نے ایک نئی تہذیبی لہر کو جنم دیا جسے ہیلینائزیشن (Hellenization) کہا جاتا ہے۔ یعنی یونانی زبان، فن، فلسفہ اور طرزِزندگی کا مشرق میں پھیلاؤ۔ یہی اثرات بعد ازآں گندھارا آرٹ (پاکستان و افغانستان) میں نمایاں ہوئے، جہاں بدھ مت کی مجسمہ سازی پر یونانی فن کا گہرا اثر دیکھا گیا۔ اسکندر کی بدولت مشرق و مغرب کے مابین تجارت، علم اور فنون کی راہیں کھلیں۔ یہی وہ میراث ہے جو آج بھی انسانی تہذیب میں زندہ ہے۔ سکندر کی شخصیت بیک وقت فاتح، مفکر، اور مصلح کی ہے۔ اس نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ جنگ صرف فتح کے لیے نہیں بلکہ تہذیبوں کے میل جول اور فکر کی وسعت کے لیے بھی لڑی جا سکتی ہے۔ تاہم، اس کی موت کے بعد سلطنت بکھر گئی گویا وہ ’’عظمت‘‘ جو اُس نے تلوار سے حاصل کی، تنظیم کے فقدان کے باعث قائم نہ رہ سکی۔ مگر تاریخ نے اسے پھر بھی ’’عظیم‘‘ کہا کیوںکہ اْس نے طاقت کو علم، اور علم کو ثقافت کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔ سکندرِاعظم ایک ایسا نام ہے جو فلسفہ، فن، جنگ اور سیاست سب کو ایک دھاگے میں پرو دیتا ہے وہ نہ صرف قدیم دنیا کا فاتح تھا بلکہ آج کے عہدِعالم گیریت کا پیش خیمہ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس نے ہمیں سکھایا:  ’’حقیقی عظمت تلوار میں نہیں، بلکہ فکر اور انسانیت میں ہے۔‘‘ سکندرِاعظم کا مقبرہ کہاں ہے؟ تاریخ کی سب سے مشہور شخصیات میں سے ایک ہونے کے ناتے، بے شمار لوگوں نے سکندرِاعظم کا مقبرہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ حیران کن بات لگتی ہے کہ اتنے عظیم فاتح کی آخری آرام گاہ صدیوں سے گم ہے، لیکن یہی حقیقت ہے۔ اس کے مقبرے کے مقام کے بارے میں کئی نظریات پیش کیے گئے ہیں، مگر اب تک کوئی متفقہ نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ تو آخر حقائق کیا کہتے ہیں؟ سکندرِاعظم کے مقبرے سے متعلق قدیم روایات سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ قدیم تحریری ذرائع اس بارے میں کیا بیان کرتے ہیں۔ 323 قبلِ مسیح میں سکندرِاعظم کی وفات بابل (موجودہ عراق) میں ہوئی۔ ان کے سپاہیوں نے ان کے لیے سونے کا ایک شان دار تابوت تیار کیا اور اسے واپس یونان لے جانے لگے، تاکہ اسے اپنے وطن میں دفن کیا جاسکے، مگر راستے میں ایک اہم واقعہ پیش آیا سکندر کے ایک جنرل بطلمی اول سوتر (Ptolemy I Soter) نے ان کے جسدِخاکی کو راستے میں روک لیا اور قبضے میں لے لیا۔ بطلمی اس وقت مصر کا گورنر تھا۔ اس نے سکندر کا جسم میمفس (Memphis) شہر لے جاکر دفن کیا، جو اس زمانے میں مصر میں یونانی حکومت کا مرکز تھا۔ تاہم، یہ مقام مستقل آرام گاہ ثابت نہ ہوا۔ یونانی مؤرخین کے مطابق چند دہائیوں بعد سکندر کی لاش کو میمفس سے نکال کر مصر کے ایک دوسرے اہم شہر اسکندریہ (Alexandria) میں دوبارہ دفن کیا گیا۔ اسکندریہ میں سکندر کا مقبرہ کہاں واقع تھا؟ ظاہر ہے کہ اسکندریہ ایک بہت بڑا شہر تھا، لہٰذا صرف یہ کہنا کہ سکندر کا مقبرہ ’’کہیں اسکندریہ میں تھا‘‘ کافی واضح بات نہیں۔ خوش قسمتی سے، قدیم تحریری ماخذ ہمیں کچھ مزید اشارے دیتے ہیں۔ روایات کے مطابق، سکندر کا مقبرہ ایک مقبراتی عمارت سوما (Soma) میں واقع تھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ آج یہ واضح نہیں کہ ’’سوما‘‘ شہر کے کس مقام پر تھا۔ یونانی جغرافیہ داں اسٹرابو (Strabo) کے مطابق، سکندر کا مقبرہ محلّاتی علاقے (District Palace ) میں تھا۔ ماہرین کو اس علاقے کا عمومی مقام معلوم ہے، مگر یہ پھر بھی بہت وسیع رقبہ ہے اور اس کا کچھ حصہ آج سمندر کے نیچے آ چکا ہے۔ لہٰذا یہ بات بھی یقینی نہیں کہ سکندر کا مقبرہ اب بھی زمین کے اوپر موجود ہے یا پانی کے نیچے دفن ہوچکا۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اسکندریہ کا تاریخی پس منظر پرامن نہیں رہا۔ صدیوں کے دوران شہر کئی بار جنگوں اور تباہ کاریوں سے گزرا، مثلاً 272 عیسوی میں زینو بیا اور آرلیان کی جنگ کے دوران شہر کو شدید نقصان پہنچا۔ بہت سے محققین کا خیال ہے کہ انہی تباہ کاریوں کے دوران سکندر کا مقبرہ بھی ممکنہ طور پر تباہ ہو گیا۔ چوںکہ اس کے بعد شہر پر بارہا نئی تعمیرات ہوئیں، اس لیے یہ بھی ممکن ہے کہ آج سکندر کا مقبرہ کسی عام سڑک کے نیچے کئی میٹر گہرائی میں دفن ہو۔ سیوا اویسس کا نظریہ اگرچہ قدیم شواہد کے مطابق سکندر کا مقبرہ اسکندریہ میں تھا، مگر کچھ محققین کا خیال ہے کہ یہ سیوا اویسس میں ہے، جو مصر کے مغرب میں لیبیا کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ اس نظریے کی ایک اہم بنیاد یہ ہے کہ قدیم مؤرخین کے مطابق سکندرِاعظم نے اپنی زندگی میں وصیت کی تھی کہ انہیں سیوا اویسس میں دفن کیا جائے۔ اکثر مؤرخین کا خیال ہے کہ یہ خواہش پوری نہیں ہوئی، لیکن کچھ محققین کے مطابق ممکن ہے کہ بعد میں ان کا جسم وہاں منتقل کردیا گیا ہو۔ 1995ء میں ماہرِآثارِقدیمہ لیانا سووالتزی ( Souvaltzi Liana) نے اعلان کیا کہ انہوں نے سیوا اویسس میں سکندر کا مقبرہ دریافت کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈھانچا مقدونی طرزِتعمیر کا عکاس ہے اور اس میں کچھ ایسی تختیاں بھی ملی ہیں جن پر کندہ تحریریں اس نظریے کی تائید کرتی ہیں کہ یہاں سکندر مدفون ہیں۔ تاہم، کئی دوسرے ماہرین نے ان کے دعوے کو مسترد کردیا۔ ان کے مطابق یہ عمارت لازمی طور پر ’’مقدونی‘‘ طرز کی نہیں ہے، اور نہ ہی اس بات کا کوئی واضح ثبوت ہے کہ یہ عمارت دراصل کوئی مقبرہ ہے۔ کیا سکندر کا مقبرہ امفی پولس (Amphipolis) میں ہے؟ ایک اور مشہور نظریہ یہ ہے کہ سکندرِاعظم کو امفی پولس کے مقبرے جسے کاسٹا ٹومب بھی کہا جاتا ہے میں دفن کیا گیا تھا۔ یہ شمالی یونان میں واقع ایک بہت بڑا مقبراتی ٹیلا (Tumulus) ہے، جو اب تک یونان میں دریافت ہونے والے تمام ٹیلوں سے بڑا ہے۔ ماہرین نے اس مقبرے کو چوتھی صدی قبل مسیح کے آخری حصے سے منسوب کیا ہے، یعنی وہی زمانہ جس میں سکندر کی وفات ہوئی۔ اس کے غیرمعمولی سائز کی وجہ سے یہ اندازہ لگایا گیا کہ یہاں کوئی انتہائی اہم شخصیت دفن ہوگی۔ اسی لیے ابتدائی طور پر بہت سے لوگوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ یہ سکندرِاعظم کا مقبرہ ہوسکتا ہے۔ تاہم، بعد میں تحقیق سے پتا چلا کہ اس مقبرے میں کچھ ایسے کلماتِ کندہ (Inscriptions) پائے گئے ہیں جو ہیفیسٹین (Hephaestion) سکندر کے نہایت قریبی دوست سے متعلق ہیں۔ اس بنا پر کھدائی کرنے والی ٹیم نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ مقبرہ غالباً ہیفیسٹین کے لیے تعمیر کیا گیا تھا، نہ کہ خود سکندر کے لیے۔ کیا سکندر کا مقبرہ وینس (Venice) منتقل کیا گیا؟ ایک اور دل چسپ نظریے کے مطابق سکندر کا مقبرہ دراصل وینس (Venice) میں واقع ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ اس نظریے کے مطابق سکندر کا جسم ابتدا میں اسکندریہ میں دفن تھا، مگر بعد میں مرقس (Mark) یعنی پہلی صدی کے مشہور مسیحی مبلغ اور انجیل نگار سے منسوب مقبرہ بھی اسی شہر میں ظاہر ہوا۔ چوتھی صدی عیسوی کے اواخر میں کچھ دستاویزات میں مرقس کے مقبرے کا ذکر ملتا ہے، اور یہی وہ وقت ہے جب سکندر کے مقبرے کا آخری مستند تذکرہ بھی سامنے آتا ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ قدیم مسیحی روایات کے مطابق مرقس کو دفن نہیں بلکہ جلایا گیا تھا۔ اس سے محقق اینڈریو چَگ (Andrew Chugg) نے یہ نظریہ قائم کیا کہ مرقس اور سکندر کا مقبرہ دراصل ایک ہی جگہ تھا یعنی سکندر کا مقبرہ بعد میں مرقس کے نام سے مشہور ہوگیا۔ نویں صدی عیسوی میں وینس کے کچھ مسیحی زائرین نے ’’مرقس‘‘ کی باقیات اسکندریہ سے لے جاکر وینس میں سینٹ مارکس باسلیکا میں دفن کردیں۔ اگر چگ کا نظریہ درست ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وینس میں موجود مرقس کی قبر دراصل سکندرِاعظم کی قبر ہو سکتی ہے۔ البتہ بیشتر جدید مؤرخین اس نظریے کو غیرمصدقہ قرار دیتے ہیں، لیکن بعض کا خیال ہے کہ مستقبل میں مزید تحقیق سے اس راز پر روشنی پڑ سکتی ہے۔ لہٰذا اب تک کوئی بھی یہ یقینی طور پر نہیں کہہ سکا کہ سکندرِاعظم کہاں دفن ہیں۔ ممکن ہے ان کا مقبرہ اب بھی اسکندریہ کی گہرائیوں میں کہیں دبا ہو، یا وقت کے طوفانوں نے اسے مٹا دیا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ سیوا اویسس یا یونان کے کسی مقدس مقام میں مدفون ہوں یا شاید ان کے باقیات کسی دوسرے مذہبی شخصیت کے نام سے صدیوں سے احترام پاتی رہی ہوں۔ سکندرِ اعظم کا مقبرہ تاریخ کے ان چند بڑے رازوں میں سے ایک ہے جو آج بھی انسانی تجسس کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مزید